MOJ E SUKHAN

دل بے بس ہے جب چاہو تم قید کرو آزاد کرو

غزل

دل بے بس ہے جب چاہو تم قید کرو آزاد کرو
سب کچھ تم پر چھوڑ دیا ہے رکھو یا برباد کرو

آپ کے گل ہیں آپ کا گلشن آپ یہاں مجبور نہیں
کلیوں کی آنکھوں میں جھانکو پھولوں کے دل شاد کرو

سب کہتے ہیں آپ ہمارے میخانے کے ساقی ہیں
تشنہ لبوں کے حق میں بڑھ کر اب تو کچھ ارشاد کرو

موسم بدلا کلیاں مل کر گیت ملن کے گاتی ہیں
اب تو قید تنہائی سے دل کو مرے آزاد کرو

ہجر کے شکوے تنہائی کے خوف کی باتیں رہنے دو
جو دن مل کر ساتھ گزارے ہیں وہ بھی تو یاد کرو

یا دنیا میں گھل مل جاؤ یا دنیا سے دور رہو
ٹوٹے پھوٹے دل سے نغمے چھیڑو اور فریاد کرو

سب کہتے ہیں آپ کے در سے فیض کا چشمہ جاری ہے
میں بھی تو دل ہار چکا ہوں میری بھی امداد کرو

زیدیؔ کلیوں کی بے باکی سے اب کیوں گھبراتے ہو
کتنے شوخ اور چنچل تھے تم اپنے دن بھی یاد کرو

ابوالفطرت میر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم