MOJ E SUKHAN

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون
اب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کون

یا جگر میں خوں کم تھا یا ابھی جنوں کم تھا
دشت کے عوض کرتا ورنہ قصد گلشن کون

اک نشاط آرائی اک سکون تنہائی
ہجر یا وصال اچھا حل کرے یہ الجھن کون

سلسلے محبت کے نام سے نہیں چلتے
اپنی ذات جو تج دے شیخ کیا برہمن کون

اک نئی لگن بخشے اک فقط تھکن بخشے
مردم آزما نکلا رہنما کہ رہزن کون

عشق بے خبر گزرے خیر و شر کے عقدوں سے
آرزو کی سیتا کو رام کون راون کون

خامۂ سخنور یا جذب اندرون گوہرؔ
فن کے سر پہ رکھتا ہے تاج عظمت فن کون

گوہر ہوشیارپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم