MOJ E SUKHAN

دل زدوں سے نبھا! خدا حافظ

دل زدوں سے نبھا! خدا حافظ
کارِ بے ساختہ! خدا حافظ

پھر بھی اس در کی چاکری کیوں ہے
جس کو تو کہہ چکا خدا حافظ

آپ نے مجھ فقیر کو جھیلا
آپ کا شکریہ خدا حافظ

اے روئے ماہ ! فی امان اللہ
اے درِ نیم وا! خدا حافظ

کرب کے ساتھ کب تلک یاری
ضبط کی کربلا خدا حافظ

اب تعاقب کی آگ ختم ہوئی
آہوئے سبز پا خدا حافظ

خامشی میں ہی عافیت ہے مجھے
حرفِ غم آشنا خدا حافظ

عبدالرحمان واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم