MOJ E SUKHAN

دل سے دنیا ہے عزیز آج بھی انسانوں کو

دل سے دنیا ہے عزیز آج بھی انسانوں کو
بھینٹ رسموں کی چڑھا دیتے ہیں ارمانوں کو

گھر سے باہر نہ کبھی راز نکالا گھر کا
لب پہ آنے نہ دیا درد کے افسانوں کو

فرقہ وارانہ تعصب کی عملداری میں
قتل کرتے ہیں مسلمان، مسلمانوں کو

ان کے دم سے ہی تو قائم ہے فراست کا بھرم
شک کی نظروں سے نہ دیکھا کرو دیوانوں کو

یا وسائل سے نواز ان کو یا غیرت دے دے
بیچ دیتے ہیں ضرورت میں جو ایمانوں کو

نازؔ ہے میرے گھروندے کو مری غیرت پر
میں نے حسرت میں نہ دیکھا کبھی ایوانوں کو ​

نازؔ خیالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم