MOJ E SUKHAN

دل لیا جان لی نہیں جاتی

دل لیا جان لی نہیں جاتی
آپ کی دل لگی نہیں جاتی

سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا
اک مری بے کسی نہیں جاتی

کیسے کہہ دوں کہ غیر سے ملیے
ان کہی تو کہی نہیں جاتی

خود کہانی فراق کی چھیڑی
خود کہا بس سنی نہیں جاتی

خشک دکھلاتی ہے زباں تلوار
کیوں مرا خون پی نہیں جاتی

لاکھوں ارمان دینے والوں سے
ایک تسکین دی نہیں جاتی

جان جاتی ہے میری جانے دو
بات تو آپ کی نہیں جاتی

تم کہو گے جو روؤں فرقت میں
کہ مصیبت سہی نہیں جاتی

اس کے ہوتے خودی سے پاک ہوں میں
خوب ہے بے خودی نہیں جاتی

پی تھی بیدمؔ ازل میں کیسی شراب
آج تک بے خودی نہیں جاتی

بیدم شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم