MOJ E SUKHAN

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے

غزل

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے
اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے

اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح
وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے

دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر
اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے

میں نے بنا دیا ہے جسے عشق میں غزل
دل اس کا ہے بیاض تو دیوان جسم ہے

اب اس کے غم سے مجھ کو ملے گی کہاں نجات
دل پاسباں ہے اور نگہبان جسم ہے

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم