MOJ E SUKHAN

دل مطمئن ہے حرف وفا کے بغیر بھی

دل مطمئن ہے حرف وفا کے بغیر بھی
روشن ہے راہ نور صدا کے بغیر بھی

اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر
پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی

گھر گھر وبائے حرص و ہوس ہے تو کیا ہوا
مرتے ہیں لوگ روز وبا کے بغیر بھی

میں ساری عمر لفظوں سے کمبل نہ بن سکا
کٹتی ہے رات یعنی ردا کے بغیر بھی

احساس جرم جان کا دشمن ہے جعفریؔ
ہے جسم تار تار سزا کے بغیر بھی

فضیل جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم