MOJ E SUKHAN

دل میں بھی کسک ہوتی ہے زخمی ہے جگر بھی

غزل

دل میں بھی کسک ہوتی ہے زخمی ہے جگر بھی
دنیائے حوادث سے ہوں میں سینہ سپر بھی

مرنے کی خبر سے ہی اگر چین ملے گا
سن لو گے کسی دن مرے مرنے کی خبر بھی

اوروں کو نصیحت تو کیا کرتے ہو لیکن
کی اپنے گریباں پہ کبھی تم نے نظر بھی

جس قوم نے گلشن کو سنوارا ہے وہی اج
معتوبِ گلستاں بھی ہے محرومِ ثمر بھی

دنیا میں محبت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے
دے اہل محبت کو کوئ اتنی خبر بھی

اشکوں کا یہی سلسلہ کام ائے گا عمران
بخشش کا سہارا ہیں ترے دیدہء تر بھی

احمد عمران اویسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم