MOJ E SUKHAN

دل میں حسرت لیئے بیٹھے ہیں پرانی باقی

دل میں حسرت لیئے بیٹھے ہیں پرانی باقی
لفظ مل جائیں تو لکھ لیں گے کہانی باقی

اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ تم نہ جوانی باقی
رہ گئی اب تو فقط یاد سہانی باقی

جسم میں خون نہ اب آنکھ میں پانی باقی
کاش رہ جاتی مرے پاس جوانی باقی

کیسےدنیا کو دکھائیں کہ ہیں زخمی کتنے
گھاو باقی ہیں نہ کچھ ان کی نشانی باقی

صبح ہوتی ہے چلو سر کو جھکا لیں پہلے
پھر سنائیں گے تمہیں اپنی کہانی باقی

وہ جو ابرو کے اشارے سے بتائیں عنوان
ہم بھی قرطاس پہ لکھ دیں گے کہانی باقی

روح تو تیری عنایت سے ہے چھلنی چھلنی
بس مرے جسم کو اب موت ہے آنی باقی

ضبط تحریر میں کب تھا مرا انکا رشتہ
کچھ مرے خط تھے، جواب ان کے زبانی باقی

حوصلہ ہمت و ایقان سے کشتی ڈالو
خود پتہ دیتی ہے موجوں کی روانی باقی

ساتھ انکا تھا تو ہر لمحہ تھا مہکا مہکا
اب کہاں اپنے لیئے رات سہانی باقی

اک نہ اک دن تو فنا ہونا ہے اسکو خاور
کیسے رہ سکتی ہے یہ دنیاء فانی باقی

داستان شب غم کیسے لکھوں میں خاور
اب نہ وہ میر رہے اور نہ وہ فانی باقی

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم