MOJ E SUKHAN

دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے

دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے
یاد غم کے ہمیں کچھ اور بھی پہلو آئے

ظلمت شب میں ہے روپوش نشان منزل
اب مجھے راہ دکھانے کوئی جگنو آئے

دل کا ہر زخم تری یاد کا اک پھول بنے
میرے پیراہن جاں سے تری خوشبو آئے

تشنہ کاموں کی کہیں پیاس بجھا کرتی ہے
دشت کو چھوڑ کے اب کون لب جو آئے

ایک پرچھائیں تصور کی مرے ساتھ رہے
میں تجھے بھولوں مگر یاد مجھے تو آئے

میں یہی آس لیے غم کی کڑی دھوپ میں ہوں
دل کے صحرا میں ترے پیار کا آہو آئے

دل پریشان ہے گلنارؔ تو ماحول اداس
اب ضرورت ہے کوئی مطرب خوش خو آئے

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم