MOJ E SUKHAN

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں

غزل

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں
ہم اپنے ہی خوف کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں

دیکھوں تو آئینے کا زنگار سلگتا ہے
بند کروں تو آنکھوں کے انگارے جاتے ہیں

ڈھونڈ رہے ہیں کب سے اپنے لہجے کا تریاک
لفظ ہمارے ہم پر ہی پھنکارے جاتے ہیں

نئے پرندے نئی اڑانیں نئی سحر کے گیت
بیداروں پر روشن خواب اتارے جاتے ہیں

آدرشوں کی ڈار کا پیچھا کرتے گلہ بان
اپنے خوابوں کی سرحد پر مارے جاتے ہیں

داد فروشی کاسہ لیسی بار شناسائی
محفل محفل کیا کیا قرض اتارے جاتے ہیں

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم