غزل
دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں
وہ جو پھیر کر نظریں پاس سے گزرتے ہیں
اے غم زمانہ ہم تجھ کو یاد کرتے ہیں
وہ دیار جاناں ہو یا جوار مے خانہ
گردشیں ٹھہرتی ہیں ہم جہاں ٹھہرتے ہیں
اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا
جب وہ اجنبی بن کر یاس سے گزرتے ہیں
اقبال صفی پوری