MOJ E SUKHAN

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں

غزل

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں

وہ جو پھیر کر نظریں پاس سے گزرتے ہیں
اے غم زمانہ ہم تجھ کو یاد کرتے ہیں

وہ دیار جاناں ہو یا جوار مے خانہ
گردشیں ٹھہرتی ہیں ہم جہاں ٹھہرتے ہیں

اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا
جب وہ اجنبی بن کر یاس سے گزرتے ہیں

اقبال صفی پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم