MOJ E SUKHAN

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے
زہر غم بادہ چکاں ہو تو غزل ہوتی ہے

فکر تپ تپ کے نکھرتی رہے کندن کی طرح
آگ سینے کی جواں ہو تو غزل ہوتی ہے

دھیمی دھیمی سی نوا سلسلہ جنبان ابد
پردۂ جاں میں نہاں ہو تو غزل ہوتی ہے

دھڑکنیں صورت الفاظ بکھرتی جائیں
دل معانی کی زباں ہو تو غزل ہوتی ہے

آنچ مٹی کے کھلونوں کی طرح ملتی جائے
ذہن خوابوں سے تپاں ہو تو غزل ہوتی ہے

روزن ماہ سے پچھلے پہر اک شوخ لقا
جانب دل نگراں ہو تو غزل ہوتی ہے

روح شب اپنی اداؤں کی تب و تاب لیے
خلوت آرائے بیاں ہو تو غزل ہوتی ہے

ایک سیال کسک جادہ کشائے تخلیق
فن کی نبضوں میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے

تجربے درد کی شبنم میں نہائیں حرمتؔ
گل فشاں شعلۂ جاں ہو تو غزل ہوتی ہے

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم