MOJ E SUKHAN

دل کو درون خواب کا موسم بوجھل رکھتا ہے

دل کو درون خواب کا موسم بوجھل رکھتا ہے
اک ان جانے خوف سے واقف ہر پل رکھتا ہے

وہ جو بظاہر ہر ذرہ ہے تیز ہواؤں میں
اپنے ہونے کا احساس مکمل رکھتا ہے

ترک تعلق نے میری بھی سوچ کو بدلا نہیں
وہ بھی شکایت اپنے ساتھ مسلسل رکھتا ہے

ریگستان کا پودا ہوں میں اور بہت سیراب
اپنا روپ رویہ مجھ پر بادل رکھتا ہے

کنکر پھینک رہے ہیں یہ اندازہ کرنے کو
ٹھہرا پانی کتنی حمیراؔ ہلچل رکھتا ہے

حمیرہ رحمان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم