غزل
دل کو پتھر بنا کے دیکھوں گا
میں بھی تجھ کو بھلا کے دیکھوں گا
راستے کا تو کر لوں اندازہ
سوئے منزل بھی جا کے دیکھوں گا
خود بجھا دوں گا دیپ میں جب بھی
طور بدلے ہوا کے دیکھوں گا
کس لئے لوگ ہیں فدا اس پر
اس کی محفل میں جا کے دیکھوں گا
میں خوشی کی طرف بھی بعض اوقات
غم سے نظریں چرا کے دیکھوں گا
چاہے کھو جائے نور آنکھوں کا
اس کو نظریں جما کے دیکھوں گا
با وفا ہی سہی مگر ہاتفؔ
میں اسے آزما کے دیکھوں گا
ہاتف عارفی فتح پوری