MOJ E SUKHAN

دل کو پتھر بنا کے دیکھوں گا

غزل

دل کو پتھر بنا کے دیکھوں گا
میں بھی تجھ کو بھلا کے دیکھوں گا

راستے کا تو کر لوں اندازہ
سوئے منزل بھی جا کے دیکھوں گا

خود بجھا دوں گا دیپ میں جب بھی
طور بدلے ہوا کے دیکھوں گا

کس لئے لوگ ہیں فدا اس پر
اس کی محفل میں جا کے دیکھوں گا

میں خوشی کی طرف بھی بعض اوقات
غم سے نظریں چرا کے دیکھوں گا

چاہے کھو جائے نور آنکھوں کا
اس کو نظریں جما کے دیکھوں گا

با وفا ہی سہی مگر ہاتفؔ
میں اسے آزما کے دیکھوں گا

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم