دل کیا لگایا آپ سے ناشاد ہو گئے
اے جانے والے دیکھ ہم برباد ہو گئے
وہ تو وفا کی قید سے آزاد ہو گئے
ان تلخیوں کی بس ہم ہی روداد ہو گئے
برباد کوئی ہوتا رہے ان کو اس سے کیا
کچھ لوگ ہم کو دیکھ کے آباد ہوگئے
آنکھوں میں جو بھی خواب سجائے ترے لیے
اے زندگی تو دیکھ لے برباد ہوگئے
پتھر کے دل بنانے لگا کیا مرا خدا
کیوں سارے لوگ ان دنوں جلاد ہو گئے
ہمدرد و غم گسار نہ سمجھو کسی کو اب
ہم ہیں قفس میں اور وہ صیاد ہو گئے
جب مر رہے تھے ساری خدائی خموش تھی
جب مر گئے تو صاحب روداد ہو گئے
شہناز تونے دل کو کیا خود لہو لہو
نغمے خوشی کے کیوں تیرے فریاد ہو گئے
شہناز رحمت