MOJ E SUKHAN

دل کیا لگایا آپ سے ناشاد ہو گئے

دل کیا لگایا آپ سے ناشاد ہو گئے
اے جانے والے دیکھ ہم برباد ہو گئے

وہ تو وفا کی قید سے آزاد ہو گئے
ان تلخیوں کی بس ہم ہی روداد ہو گئے

برباد کوئی ہوتا رہے ان کو اس سے کیا
کچھ لوگ ہم کو دیکھ کے آباد ہوگئے

آنکھوں میں جو بھی خواب سجائے ترے لیے
اے زندگی تو دیکھ لے برباد ہوگئے

پتھر کے دل بنانے لگا کیا مرا خدا
کیوں سارے لوگ ان دنوں جلاد ہو گئے

ہمدرد و غم گسار نہ سمجھو کسی کو اب
ہم ہیں قفس میں اور وہ صیاد ہو گئے

جب مر رہے تھے ساری خدائی خموش تھی
جب مر گئے تو صاحب روداد ہو گئے

شہناز تونے دل کو کیا خود لہو لہو
نغمے خوشی کے کیوں تیرے فریاد ہو گئے

شہناز رحمت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم