MOJ E SUKHAN

دل کی دل نے نہ کہی یوں تو کئی بار ملے

غزل

دل کی دل نے نہ کہی یوں تو کئی بار ملے
ہم شناسا تھے مگر صورت اغیار ملے

اس سے کہنا کہ نہ اب اور وہ اترا کے چلے
دوستو تم کو اگر یار طرحدار ملے

بے وفا ہم ہیں تو اے جان وفا یونہی سہی
ڈھونڈ لینا جو تمہیں کوئی وفادار ملے

ہم تو دل دے کے بھی دنیا میں اکیلے ہی رہے
جو ہوس کار تھے سب ان کے طرف دار ملے

دل کی قیمت تو محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھی
جو ملے صورت زیبا کے خریدار ملے

ہم نے کانٹوں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے
خار بھی ہم سے برنگ گل گلزار ملے

دوریاں فاصلے ہو جاتے ہیں طے آخر کار
سر گلزار جو بچھڑے تھے سر دار ملے

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم