MOJ E SUKHAN

دل کی میں آواز سنوں یا رہنے دوں

دل کی میں آواز سنوں یا رہنے دوں
آنکھوں میں کچھ خواب بنوں یا رہنے دوں

خاموشی کا ناگ ترے بن ڈستا ہے
سناٹے کا شور سنوں یا رہنے دوں

تیرے میرے بیچ انا کا جھگڑا ہے
دیوارِ پندار چنوں یا رہنے دوں

اس پر میری جان ہمیں ہی چلنا ہے
رستے کے سب خار چنوں یا رہنے دوں

شاید عظمی جون ضرورت پڑ جائے
رکھ لوں اپنے ساتھ جنوں یا رہنے دوں

عظمی جون

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم