MOJ E SUKHAN

دل کے تاروں کو ھلا دیتی ھے

دل کے تاروں کو ھلا دیتی ھے
خامشی غم کو بڑھا دیتی ھے

تیرے اندازِ تکلم سے صبا
میرے ارمان جگا دیتی ھے

یہ مری چشمِ طلب دل میں مرے
تری تصویر بنا دیتی ہے

یہ ہے تاثیر دعاؤں کی میاں
کھوئی تقدیر جگا دیتی ہے

اور کرتی ہے کیا ہوا شائق
بس چراغوں کو بجھا دیتی ہے

(سید شائق شہاب)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم