دل کے تاروں کو ھلا دیتی ھے
خامشی غم کو بڑھا دیتی ھے
تیرے اندازِ تکلم سے صبا
میرے ارمان جگا دیتی ھے
یہ مری چشمِ طلب دل میں مرے
تری تصویر بنا دیتی ہے
یہ ہے تاثیر دعاؤں کی میاں
کھوئی تقدیر جگا دیتی ہے
اور کرتی ہے کیا ہوا شائق
بس چراغوں کو بجھا دیتی ہے
(سید شائق شہاب)