MOJ E SUKHAN

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں

غزل

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں
عشق کی خامکاریاں نہ گئیں

مر مٹے نام پر وفا کے ہم
تیری بے اعتباریاں نہ گئیں

لب پہ آیا نہ اس کا نام کبھی
غم کی پرہیز گاریاں نہ گئیں

کھپ گئی جان بجھ گئے تیور
اشک کی تابداریاں نہ گئیں

توبہ کرنے کو ہم نے کی تو مگر
توبہ کی شرمساریاں نہ گئیں

جان آ ہی گئی لبوں پہ مگر
شوق کی پردہ داریاں نہ گئیں

وہ ہے کینہ کہ سرد مہری ہے
اپنی جانب سے یاریاں نہ گئیں

گریہ بھی ہے اثرؔ کا مستانہ
نہ گئیں بادہ خواریاں نہ گئیں

اثر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم