Dunya to Kar Rahi Hay Mohabat ka Tajruba
غزل
دنیا تو کر ر ھی ھے محبت کا تجربہ
پر تم کرو ھو آج بھی نفرت کا تجربہ
اونچی اڑان بھرتے پرندوں کو دیکھ کر
کم ظرف کر رھے ہیں رقابت کا تجربہ
گھرچھوڑںےکی شرط ضرورینہیں میاں
ہوتاھےاپنےگھرمیں بھی ہجرت کاتجربہ
سانپوں کی طرح لوگ بدلتے ہیں کینچلی
حیرت کو ہو رہا ھے یہ حیرت کا تجربہ
ریحانہ روحی تم کو خدا نے بچالیا
تلپٹ ھوا عدو کی خباثت کا تجربہ
ریحانہ روحی
Rehana Roohi