MOJ E SUKHAN

دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیں

غزل

دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیں
رات پڑتی ہے تو ہم اپنی خبر ڈھونڈتے ہیں

رابطہ کچھ تو رہے روح کا پاتال کے ساتھ
آج ہم بھی تری آنکھوں میں بھنور ڈھونڈتے ہیں

کوئی خوشبو نہ یہاں انجم و مہتاب کی ضو
ان گھروں سے بہت آگے ہے جو گھر ڈھونڈتے ہیں

عشق سے داد طلب ہیں کہ ہم آوارہ منش
در میں دیوار نہ دیوار میں در ڈھونڈتے ہیں

کیوں جدائی کے مہ و سال میں بدلے تو نے
آ محبت کے وہی شام و سحر ڈھونڈتے ہیں

وہ جو اب سرحد امکاں سے پرے رہتا ہے
کب وہ جعفرؔ ہمیں ملتا ہے مگر ڈھونڈتے ہیں

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم