MOJ E SUKHAN

دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے

غزل

دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے
دشمنوں کا دل بڑھانا چھوڑ دے

تم ہی دنیا بھی مری ہو دین بھی
کیا ہے گر سارا زمانہ چھوڑ دے

حال دل کہنا جو چاہا یہ کہا
بے سر و پا یہ فسانہ چھوڑ دے

بزم دشمن میں وہ جا کر لٹ گئے
رہزن اور ایسا خزانہ چھوڑ دے

شرم کر اے دل تغافل اس کا دیکھ
اب بھی حال دل سنانا چھوڑ دے

تاب نظارہ سے خود محروم ہیں
عاشقوں سے منہ چھپانا چھوڑ دے

اس کو میں پردہ نشیں سمجھوں اگر
میری نظروں میں سمانا چھوڑ دے

تند مے اور ساقیا وہ شعلہ خو
آگ پانی میں لگانا چھوڑ دے

داغ دل بلبل کو ہے رشک بہار
کیوں خزاں میں چہچہانا چھوڑ دے

کیوں جئے کیوں کر جئے بیدلؔ اگر
مہوشوں سے دل لگانا چھوڑ دے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم