MOJ E SUKHAN

دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا

دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا
سراپا موم ہو یا سنگ ہو جا

تجھے جیوں غنچہ گر ہے درد کی بو
لہو کا گھونٹ پی دل تنگ ہو جا

کہا کس طرح دل نے تجھ کوں اے غم
کہ دل کی آرسی پر زنگ ہو جا

یہی آہوں کے تاروں میں صدا ہے
کہ بار غم سیں خم جیوں چنگ ہو جا

دعا ہے اے رہ غم طول عمر کا
قدم پر ہے تو سو فرسنگ ہو جا

گلے میں ڈال رسوائی کی الفی
الف کھنچ آہ کا بے ننگ ہو جا

برہ کی آگ میں ثابت قدم چل
سراجؔ اب شمع کا ہم رنگ ہو جا

سراج اورنگ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم