MOJ E SUKHAN

دو قدم چاند مرے ساتھ جو چل پڑتا ہے

دو قدم چاند مرے ساتھ جو چل پڑتا ہے
شہر کا شہر تعاقب میں نکل پڑتا ہے

میں سرِ آب جلاتا ہوں فقط ایک چراغ
دوسرا آپ ہی تالاب میں جل پڑتا ہے

پیاس جب توڑتی ہے سر پہ مصیبت کے پہاڑ
کوئی چشمہ میری آنکھوں سے ابل پڑتا ہے

بے خیالی میں اسی راہ پہ چل پڑتا ہوں ہوں
جانتا بھی ہوں کہ اس راہ میں تھل پڑتا ہے

ایسا لگتا ہے کہ تو دیکھ رہا ہے مڑ کر
جب ہواؤں سے کسی شاخ میں بل پڑتا ہے

ٹوٹ جاتا ہے محبت کا تسلسل یکسر
‘آج’ کے بیچ میں جس وقت یہ ‘کل’ پڑتا ہے

درد بھی دیتا ہے دروازے پہ دستک دوشی
دل کی دھک دھک سے بھی خوابوں میں خلل پڑتا ہے

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم