MOJ E SUKHAN

دھندلا دھندلا سا لگتا ہے اک اک چہرا اس کے بعد

دھندلا دھندلا سا لگتا ہے اک اک چہرا اس کے بعد
کیسے بتاؤں خواب کا شیشہ ٹوٹ کے بکھرا اس کے بعد

گھر کی ساری چیزیں اس کی یاد دلاتی رہتی ہیں
قلم،کتابیں،کرسی ٹیبل، کولر پنکھا اس کے بعد

اک شب میرے خواب میں آئے تو میں اس سے بولوں گی
ہجر میں پھرتی رہتی ہوں میں، صحرا صحرا اس کے بعد

آنکھ میں آنسو، دل میں ہلچل، چہرہ ہے مرجھایا ہوا
کیسا حال بنا رکھا ہے، تم نے اپنا اس کے بعد

کیسا غم اورکیسی خوشیاں،کیا رونا کیامسکانا
میرے لئے تو یکساں ہے اب جینا مرنا اس کے بعد

اس کی یاد ستاتی ہے تو شعر رقم کرتی ہوں قمر
اِس سے بہتر کیا ہوگا کچھ بولو نسخہ اس کے بعد

قمرسرور.

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم