MOJ E SUKHAN

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں
کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلاسکتے ہیں

مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملاسکتے ہیں؟
منہ تو دیکھو وہ مرے سامنے آسکتے ہیں؟

یاں و آتش نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹ
آگ دامان شفق کو بھی لگا سکتے ہیں

سوچئے توسہی، ہٹ دھرمی نہ کیجئے صاحب
چٹکیوں میں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہیں

حضرت دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکن
اب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں

شیخی اتنی نہ کر اے شیخ کہ رندان جہاں
انگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں

انشاء اللہ خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم