MOJ E SUKHAN

دھوپ جب تک سر پہ تھی زیر قدم پائے گئے

ڈوبتے سورج میں کتنی دور تک سائے گئے

آج بھی حرف تسلی ہے شکست دل پہ طنز

کتنے جملے ہیں جو ہر موقع پہ دہرائے گئے

اس زمین سخت کا اب کھودنا بے کار ہے

دفن تھے جو اس خرابے میں وہ سرمائے گئے

دشمنوں کی تنگ ظرفی ناپنے کے واسطے

ہم شکستوں پر شکستیں عمر بھر کھائے گئے

اب درندہ کھوجیوں کی دسترس میں آ گیا

نہر کے ساحل پہ پنجوں کے نشاں پائے گئے

آج سے میں اپنے ہر اقدام میں آزاد ہوں

جھانکتے تھے جو مرے گھر میں وہ ہمسائے گئے

ان گلی کوچوں میں بہنوں کا محافظ کون ہے

کسب زر کی دوڑ میں بستی سے ماں جائے گئ

دھوپ جب تک سر پہ تھی زیر قدم پائے گئے
ڈوبتے سورج میں کتنی دور تک سائے گئے

آج بھی حرف تسلی ہے شکست دل پہ طنز
کتنے جملے ہیں جو ہر موقع پہ دہرائے گئے

اس زمین سخت کا اب کھودنا بے کار ہے
دفن تھے جو اس خرابے میں وہ سرمائے گئے

دشمنوں کی تنگ ظرفی ناپنے کے واسطے
ہم شکستوں پر شکستیں عمر بھر کھائے گئے

اب درندہ کھوجیوں کی دسترس میں آ گیا
نہر کے ساحل پہ پنجوں کے نشاں پائے گئے

آج سے میں اپنے ہر اقدام میں آزاد ہوں
جھانکتے تھے جو مرے گھر میں وہ ہمسائے گئے

ان گلی کوچوں میں بہنوں کا محافظ کون ہے
کسب زر کی دوڑ میں بستی سے ماں جائے گئے

علامہ طالب جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم