MOJ E SUKHAN

دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے
خود کو سائے سائے رکھنا کتنا مشکل ہے

ظاہر میں جو رستہ سیدھا لگتا ہو اس پر
اپنے پیر جمائے رکھنا کتنا مشکل ہے

آوازوں کی بھیڑ میں اتنے شور شرابے میں
اپنی بھی اک رائے رکھنا کتنا مشکل ہے

ہم سے پوچھو ہم دل کو سمجھایا کرتے تھے
وحشی کو سمجھائے رکھنا کتنا مشکل ہے

صرف پرندے کو معلوم ہے تیز ہواؤں میں
اپنے پر پھیلائے رکھنا کتنا مشکل ہے

آج کی رات ہوائیں بے حد سرکش لگتی ہیں
آج چراغ جلائے رکھنا کتنا مشکل ہے

دوستیوں اور دشمنیوں کی زد میں رہ کے نسیمؔ
اپنا آپ بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

نسیم سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم