MOJ E SUKHAN

دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا

دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا
اسی کے سائے میں وہ ہم کو ڈھونڈھتا ہوگا

کوئی تو ضد میں یہ آ کر کبھی کہے ہم سے
یہ بات یوں نہیں ایسے تھی یوں ہوا ہوگا

تمہارا گھر سر مہتاب جو بنا ڈالے
تمہارا بیٹا نہیں وہ خدا رہا ہوگا

وہ آنکھیں ابر کی مانند رو رہی ہوں گی
وہ زینہ خواب میں مہتاب پر ٹکا ہوگا

یہ کیا ضروری ہے آنکھوں میں دیر تک رہنا
خیال آپ ہی تصویر بن گیا ہوگا

سنہرے پنجرے کی اپنی ہی حیثیت ہوگی
پرندہ خوش ہے مگر خوب چیختا ہوگا

کہا ہے ایک نجومی نے تم ملوگے ہمیں
زمیں سے چاند تلک ایک راستہ ہوگا

خدا کرے کہ بہت جلد تم کو دیکھ آئیں
تمہارے گھر میں اب اک پھول کھل اٹھا ہوگا

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم