MOJ E SUKHAN

دیتے رہے سفر میں یوں تسکین راستے

دیتے رہے سفر میں یوں تسکین راستے
شیریں تھے تلخ تھے کہیں نمکین راستے

ٹھہریں جو شام دن کے تھکے ہارے کارواں
مہماں نوازی کرتے ہیں شوقین راستے

رستے سجیں امیر کے لیکن غریب کی
منزل اندھیری ہوتی ہے مسکین راستے

اک راستے پہ چوک سے میں چل پڑا مگر
ناراض مُجھ سے رہنے لگے تین راستے

ٹھوکر لگے تو اہلِ نظر جان لیتے ہیں
کرتے ہیں جاگنے کی یوں تلقین راستے

ہم پر لگی ہے شرط سفر کی بہت کڑی
منزل ہماری موم ہے ، سنگین راستے

کتنا ہے خُوش نصیب مُسافر جہاں میں وہ
جس کی دُعا پہ کہتے ہوں آمین راستے

جاوید اپنے آدھی صدی کے سفر تلک
بے رنگ بھی رہے کبھی رنگین راستے

جاوید احمد خان جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم