دیتے رہے سفر میں یوں تسکین راستے
شیریں تھے تلخ تھے کہیں نمکین راستے
ٹھہریں جو شام دن کے تھکے ہارے کارواں
مہماں نوازی کرتے ہیں شوقین راستے
رستے سجیں امیر کے لیکن غریب کی
منزل اندھیری ہوتی ہے مسکین راستے
اک راستے پہ چوک سے میں چل پڑا مگر
ناراض مُجھ سے رہنے لگے تین راستے
ٹھوکر لگے تو اہلِ نظر جان لیتے ہیں
کرتے ہیں جاگنے کی یوں تلقین راستے
ہم پر لگی ہے شرط سفر کی بہت کڑی
منزل ہماری موم ہے ، سنگین راستے
کتنا ہے خُوش نصیب مُسافر جہاں میں وہ
جس کی دُعا پہ کہتے ہوں آمین راستے
جاوید اپنے آدھی صدی کے سفر تلک
بے رنگ بھی رہے کبھی رنگین راستے
جاوید احمد خان جاوید