MOJ E SUKHAN

دیوانوں کے پاس آئے ہیں اپنی سی سمجھانے لوگ

غزل

دیوانوں کے پاس آئے ہیں اپنی سی سمجھانے لوگ
بستے ہیں اس دنیا میں بھی کیسے کیسے سیانے لوگ

اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں دنیا کا کیا لیتے ہیں
ہم سے آپ نہ الجھا کیجئے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ

دل کا راز تھی سچی چاہت لیکن کیسے عام ہوئی
ہم تو چپ بیٹھے ہیں لیکن کہتے ہیں افسانے لوگ

پہلا پھیرا میل ہے پہلا دل سے ہوئے مانوس مگر
پیار کی انجانی بستی کے یہ پیارے انجانے لوگ

اس سے ترک تعلق پر بھی آتے جاتے ہیں جو سروشؔ
اس کی گلی میں مل جاتے ہیں کچھ جانے پہچانے لوگ

محمود سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم