MOJ E SUKHAN

دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دے

دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دے
چیخوں تو پیڑ پات بھی بہرا دکھائی دے

ہر شخص اپنے آپ کو کرتا رھے تلاش
ہر شخص اپنے اپ میں چھپتا دکھائی دے

میں ہی نہیں ہوں اپنی تباہی کی داستاں
وہ بھی اب اپنے آپ سے لڑتا دکھائی دے

کرتا رہا تلاش جو ماں اپنی عمر بھر
مجھ کو ہر اک سڑک پر وہ بچہ دکھائی دے

جھوٹا نہیں ہوں میں بھی محبت کے باب میں
اور وہ بھی اپنے حال میں سچا دکھائی دے

جیسے کسی جزیرے پہ تنہا ہو آدمی
ہر شخص یوں خموش سا کھویا دکھائی دے

تاجدار عادل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم