MOJ E SUKHAN

دیکھو تو کیسے بخت ہیں ہاتے زمین کے

دیکھو تو کیسے بخت ہیں ہاتے زمین کے
بجھتے ہی جارہے ہیں ستارے زمین کے

تھک ہار کر جو شام کو ڈھلتا ہے آفتاب
دھلتے ہیں آبِ زر سے کنارے زمین کے

پیڑوں کو اس طرح سے نہ کاٹو ذرا رکو
لوگو یہ آخری ہیں سہارے زمین کے

پنچھی شجر کی شاخ سے جو کر رہے ہیں کوچ
شاید سمجھ چکے ہیں اشارے زمین کے

پھولوں کا پیرہن کہیں رنگوں کی آب جو
کتنے ہیں دلفریب نظارے زمین کے

سوچا ہے آج دل سے تو عرفان یہ کھلا
ملتے ہیں آنسوؤں سے کنارے زمین کے

عرفان صادق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم