MOJ E SUKHAN

دیکھیں ہماری جان جلایا نہ کیجیے

Dekhain Hamari jaan jalaya na kejyee

غزل

دیکھیں ہماری جان جلایا نہ کیجیے
بارش میں چھت پہ جا کے نہایا نہ کیجیے

محسوس کیجیے کہ بڑی ہو گئی ہیں آپ
چُنری بغیر سامنے آیا نہ کیجیے

آتا ہے پیار مجھ پہ لگا لیجیے گلے
جذباتِ والہانہ دبایا نہ کیجیے

احساسِ اضطراب کی لذت نہ چھینیے
ؑبجتے ہیں فون جھٹ سے اٹھایا نہ کیجیے

میں ری پلائے دیر سے دوں آپ کو اگر
جانِ عزیز طیش میں آیا نہ کیحیے

مجھ کو خبر رقیب سے بھی بات چیت ہے
دیکھیں یہ لاسٹ سِین چُھپایا نہ کیجیے

(شاہ فہد)

Shah Fahad

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم