Dekhain Hamari jaan jalaya na kejyee
غزل
دیکھیں ہماری جان جلایا نہ کیجیے
بارش میں چھت پہ جا کے نہایا نہ کیجیے
محسوس کیجیے کہ بڑی ہو گئی ہیں آپ
چُنری بغیر سامنے آیا نہ کیجیے
آتا ہے پیار مجھ پہ لگا لیجیے گلے
جذباتِ والہانہ دبایا نہ کیجیے
احساسِ اضطراب کی لذت نہ چھینیے
ؑبجتے ہیں فون جھٹ سے اٹھایا نہ کیجیے
میں ری پلائے دیر سے دوں آپ کو اگر
جانِ عزیز طیش میں آیا نہ کیحیے
مجھ کو خبر رقیب سے بھی بات چیت ہے
دیکھیں یہ لاسٹ سِین چُھپایا نہ کیجیے
(شاہ فہد)
Shah Fahad