MOJ E SUKHAN

دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں

غزل

دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں
کلاس فیلو ہیں ہم دوستی تو ہوگی ناں

نظر جھکائے یوں ہی پاس سے نہیں گزرا
فریب کار کو شرمندگی تو ہوگی ناں

یہ میرا فیض نہیں خانوادے کا ہے مزاج
سو میرے چاروں طرف روشنی تو ہوگی ناں

ہمارے جیب تراشوں کے حسن ظن کو سلام
کہ زر ہوا نہ ہوا شاعری تو ہوگی ناں

کبھی جو آنکھوں سے کرتے تھے آج کہنا پڑیں
ہماری باتوں میں بے ربطگی تو ہوگی ناں

پرندے اپنے ٹھکانوں پہ اڑ کے جا چکے ہیں
ہمارے نان و نمک میں کمی تو ہوگی ناں

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم