MOJ E SUKHAN

دیے کی لو مری جانب لپک رہی ہے اب

غزل

دیے کی لو مری جانب لپک رہی ہے اب
یہ بات سارے جہاں کو کھٹک رہی ہے اب

یہ جان کر کہ مرے سر سے آسمان گیا
زمین پاؤں تلے سے سرک رہی ہے اب

جو بات برسوں تلک آئنے سے کرتی رہی
وہ تجھ سے کہتے گلے میں اٹک رہی ہے اب

تمہارے وعدے کے سونے کا کھوٹ ہے دیکھو
یہ میرے سر میں جو چاندی چمک رہی ہے اب

کسی طرح مجھے خود کو سنبھالنا ہوگا
اداسی آنکھ سے باہر چھلک رہی ہے اب

ہماری آنکھ لگی ہے گھڑی کی سوئی پر
ہماری نبض مسلسل پھڑک رہی ہے اب

بلقیس خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم