MOJ E SUKHAN

ذرا سی دیر کو پہلو جو تو بدلتا ہے

ذرا سی دیر کو پہلو جو تو بدلتا ہے
مرے وجود میں راہیں لہو بدلتا ہے

خوشی سے نقل مکانی کوٸی نہیں کرتا
ستاٸے جانے سے ہی کوٸی جُو بدلتا ہے

ہم ایسے لوگوں کا قبلہ نہیں بدلتا میاں
وضو جو ٹوٹ بھی جاٸے وضو بدلتا ہے

اسے پہن کے چمن میں بہار آتی ہے
جو پیرہن مرا ذوقٍ نمو بدلتا ہے

ستم شعار رہاٸی عطا نہیں کرتا
کبھی کبھی مرا طوقٍ گُلو بدلتا ہے

نیاز مند ہو کوٸی کہ بے نیاز رہے
یہ آسمان کہاں اپنی خو بدلتا ہے

عرفان اللہ عرفان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم