ذرا سی دیر کو پہلو جو تو بدلتا ہے
مرے وجود میں راہیں لہو بدلتا ہے
خوشی سے نقل مکانی کوٸی نہیں کرتا
ستاٸے جانے سے ہی کوٸی جُو بدلتا ہے
ہم ایسے لوگوں کا قبلہ نہیں بدلتا میاں
وضو جو ٹوٹ بھی جاٸے وضو بدلتا ہے
اسے پہن کے چمن میں بہار آتی ہے
جو پیرہن مرا ذوقٍ نمو بدلتا ہے
ستم شعار رہاٸی عطا نہیں کرتا
کبھی کبھی مرا طوقٍ گُلو بدلتا ہے
نیاز مند ہو کوٸی کہ بے نیاز رہے
یہ آسمان کہاں اپنی خو بدلتا ہے
عرفان اللہ عرفان