MOJ E SUKHAN

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ
کتنے الجھاؤ ہیں زنجیر روایات کے ساتھ

کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستم
یہ ستارے تو چلے جائیں گے سب رات کے ساتھ

جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئے
ہم کہ چلتے ہی رہے گردش حالات کے ساتھ

وقت کرتا ہے بھلا کس سے یہاں حسن سلوک
وہ بھی اس دور میں قانون مکافات کے ساتھ

وہ تو خنجر تھا گلے جس نے لگایا ہم کو
ورنہ پیش آتا ہے اب کون مدارات کے ساتھ

حادثے ہیں تو انہیں پیش بھی آنا ہے ضرور
وہ بھی اس شوخ سے تقریب ملاقات کے ساتھ

کون سنتا ہے یہاں دل کی کہانی تنویرؔ
وہ بھی خوشبوؤں کے موہوم اشارات کے ساتھ

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم