MOJ E SUKHAN

ذہن سے دل کا بار اترا ہے

غزل

ذہن سے دل کا بار اترا ہے
پیرہن تار تار اترا ہے

ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ
کون ایسے میں پار اترا ہے

ترک مے کر کے بھی بہت پچھتائے
مدتوں میں خمار اترا ہے

دیکھ کر میرا دشت تنہائی
رنگ روئے بہار اترا ہے

پچھلی شب چاند میرے ساغر میں
پے بہ پے بار بار اترا ہے

ابنِ صفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم