MOJ E SUKHAN

ذہن میں رہتا ہے اس سے رابطہ ٹوٹا ہوا

غزل

ذہن میں رہتا ہے اس سے رابطہ ٹوٹا ہوا
دیکھنا پڑتا ہے مجھ کو آئینہ ٹوٹا ہوا

کیا کروں شدت سے ہو گا اس کو میرا انتظار
ان دنوں زیرِقدم ہے راستہ ٹوٹا ہوا

ڈر رہا ہوں مسئلوں کے حل ادھورے رہ نہ جائیں
کیا کہوں، ہر شخص کا ہے مسئلہ ٹوٹا ہوا

مخبروں کی یہ خبر ہے وہ کسی کی تھی کبھی
پھول جو اس نے دیا وہ پھول تھا ٹوٹا ہوا

میں مراحل سے گزر سکتا ہوں لیکن کیا کروں
ہے من و تو کا ہر اک ہی مرحلہ ٹوٹا ہوا

میں توسط سے محبت کے ملا خود کو مگر
جاں ملی بچھڑی ہوئ اور دل ملا ٹوٹا ہوا

تکیہ، بستر منتشر تھے، گھر بلاتے کیا اسے
تھا ہمارے پاس سامانِ وفا ٹوٹا ہوا

توڑتا ہے دو طرح، ہر توڑنے والا مجھے
پیش آتا ہے مجھے ہر حادثہ ٹوٹا ہوا

تیشہ، پتھر دے کے مجھ کو وہ گئ: پھر اس کے بعد
میں نے جو بت بھی بنایا، وہ بنا ٹوٹا ہوا

جو سلامت تھا وہ محسن رائگانی لے گئ
اور ہماری ذات کے اندر بچا ٹوٹا ہوا

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم