MOJ E SUKHAN

رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھے

غزل

رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھے
زندگی کتنے حسیں خواب دکھاتی ہے مجھے

ان دنوں عشق کی فرصت ہی نہیں ہے ورنہ
اس دریچے کی اداسی تو بلاتی ہے مجھے

توڑ دیتا ہوں کہ یہ بھی کہیں دھوکا ہی نہ ہو
جام میں جب تری صورت نظر آتی ہے مجھے

دن اسی فرق کے جنگل میں گزر جاتا ہے
رات یادوں کا وہی زہر پلاتی ہے مجھے

ساتھ جس روز سے چھوٹا ہے کسی کا آذرؔ
جیسے کمرے کی ہر اک چیز ڈراتی ہے مجھے

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم