غزل
رات کا شور تھم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
آنکھوں میں خواب جم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
پھر سے ترے خیال میں جلتا رہا لہو مرا
روح میں کوئی غم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
ایسی کرشمہ سازیاں دیکھی ہیں میں نے رات میں
ہاتھوں سے جب قلم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
اپنے تصورات پر اشک نہیں رواں ہوئے
اشکوں میں تُو بہم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
مجھ کو ندیم ہجر نے ایسا شعور دے دیا
وقتِ زوالِ غم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
ندیم ملک