MOJ E SUKHAN

رات کا شور تھم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی

غزل

رات کا شور تھم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
آنکھوں میں خواب جم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
پھر سے ترے خیال میں جلتا رہا لہو مرا
روح میں کوئی غم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
ایسی کرشمہ سازیاں دیکھی ہیں میں نے رات میں
ہاتھوں سے جب قلم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
اپنے تصورات پر اشک نہیں رواں ہوئے
اشکوں میں تُو بہم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
مجھ کو ندیم ہجر نے ایسا شعور دے دیا
وقتِ زوالِ غم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی
ندیم ملک
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم