MOJ E SUKHAN

رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہے

غزل

رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہے
چاند کی قندیل جلتے ہی اجالا ہو گیا ہے

خامشی کی آندھیاں باغی نظر آتی ہیں مجھ کو
رات کالی ہے تو سناٹا بھی کالا ہو گیا ہے

اب محبت ہے مروت ہے نہ اب انکساری
آج کے اس دور میں ہر شخص ننگا ہو گیا ہے

قصۂ ریگ رواں جب آندھیوں کی زد پہ آیا
دھند کا حیرت زدہ آسیب تنہا ہو گیا ہے

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم