MOJ E SUKHAN

رات ہے چاند اور سناٹا

رات ہے چاند اور سناٹا
میں بھٹکتا چکور سناٹا

شام کی آنکھ میں لگانے لگا
میرے کاجل کی ڈور سناٹا

اس کی آہٹ پہ چونک جاتا ہے
دل میں میرے ہے چور سناٹا

رات بھر چیختی ہے خاموشی
دن کو کرتا ہے شور سناٹا

اس کی دھڑکن کرے ہے واویلا
لے چلا جس کی اور سناٹا

سارا عالم ہی وجد میں ہوگا
بن کے ناچے گا مور سناٹا

کون ہارا ہے زندگی سے کرن
کتنا کرتا ہے غور سناٹا

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم