MOJ E SUKHAN

رازِ دل ان سے چھپاتے ہوئے تھک جاتی ہوں

Raaz e Dil Un say chupaty Hoyee Dar jaati Hoon

غزل

رازِ دل ان سے چھپاتے ہوئے تھک جاتی ہوں
دل سے اک نام مِٹاتے ہُوئے تھک جاتی ہُوں

دل میں اقرار محبت سےہے جو شعلہ فشاں
درد کی آگ بُجھاتے ہُوئے تھک جاتی ہُوں

ٹوٹے رشتوں میں بہت ٹوٹے دلوں کے اکثر
تار سے تار مِلاتے ہُوئے تھک جاتی ہُوں

خوف کے ساۓ ہیں رقصاں ہوئے اندر ، باہر
دل کے بچے کوہنساتے ہُوئے تھک جاتی ہُوں

ساقيا ! خوب سہی جام محبت تیرا
گرنے والوں کو اٹھاتے ہوئے تھک جاتی ہوں

وقت کی جھیل میں یادوں کے گرا کر پتھر
دائرے دل میں بناتے ہوئے تھک جاتی ہوں

اس قدر قحط محبت ہے جہاں میں عالی
مشعلِ عشق جلاتے ہُوئے تھک جاتی ہُوں

شائستہ کنول عالی

Shaista Kanwal Aali

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم