غزل
رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپ
کردار ہیں کہانی کے سب آج شام چپ
جاہل عدو سے باتوں سے بدلہ نہ لے تو دوست
اس سے بڑا نہیں ہے کوئی انتقام چپ
بے نام خواہشوں نے بنایا اسے حلیف
پاؤں میں سرنگوں تھی کہیں ناتمام چپ
تنہائی ہو تو بولنا سب سے بڑا ہے جرم
ہو سامنے حبیب تو پھر ہے حرام چپ
زینے اتر کے آئے ہیں وہ ایسے روبرو
دانتوں میں انگلیاں ہیں سبھی خوش کلام چپ
دیکھو وہ عالی جاہ ہیں عالی مقام ہیں
حد ادب ہے رہیے بصد احترام چپ
دکھ درد کی بنت سے کہانی ہوئی ہے ختم
طاہرؔ نہ ان کا بھولے سے بھی لے تو نام چپ
طاہر حنفی