MOJ E SUKHAN

راہوں کی سختیوں سے شناسائی بھی نہ تھی

راہوں کی سختیوں سے شناسائی بھی نہ تھی
اس پر ستم کہ مجھ میں توانائی بھی نہ تھی

کس فرقے میں شمار مری ذات ہو یہاں
ظالم اگر نہ تھی تو تماشائی بھی نہ تھی

آواز آ رہی تھی جو دل کے مقام سے
ماتم اگر نہیں تو یہ شہنائی بھی نہ تھی

کیسے نہ جانے غم کی تمازت میں بچ گئی
لڑکی گلاب سی گل صحرائی بھی نہ تھی

آخر مسل ہی دی گئی معصوم سی کلی
بچپن پہ اپنے وہ ابھی اترائی بھی نہ تھی

مانا کہ زہدِ حضرتِ یوسف نہ مجھ میں تھا
نوشی ! مگر دلیری زلیخائی بھی نہ تھی۔

نوشین فاطمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم