MOJ E SUKHAN

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوں

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوں
اور اگر کچھ بن نہیں پڑتا چپکے چپکے رو لوں ہوں

موتی اشک ستارے آنسو زرداروں کی تشبیہات
بھوک میں پلکوں پر گویا میں جوار کے دانے تولوں ہوں

جب کوئی زردار ملے ہے راہ میں اپنی چال میں مست
پتھر سے کیا ٹکرانا میں ایک کنارے ہو لوں ہوں

ننھے ننھے ہاتھوں میں جب بھیک کا کاسہ دیکھوں میں
دیر تلک میں ہاتھ سمیٹے خالی جیب ٹٹولوں ہوں

سرسوں کے کھلیان پہ قابض اندھیاروں کے شاکی ہیں
میں تو لہو کے دیپ جلا کر چین سے شب بھر سو لوں ہوں

منعم جب تحقیر سے دیکھے میرے سوکھے سوکھے ہاتھ
پونچھ کے پیشانی سے پسینہ اپنے ہاتھ بھگو لوں ہوں

شعر کہاں یہ دل کے دروازے پر ہلکی دستک ہے
ایک کنی الماس کی جس سے پتھر میں در کھولوں ہوں

رشیدہ عیاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم