MOJ E SUKHAN

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے

غزل

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے
آنکھیں بھی چاہیے دل بینا بھی چاہیے

ان کی گلی میں ایک مہینہ گزار کر
کہنا کہ اور ایک مہینہ بھی چاہیے

مہکے گا ان کے در پہ کہ زخم دہن ہے یہ
واپس جب آؤ تو اسے سینا بھی چاہیے

رونا تو چاہیے ہے کہ دہلیز ان کی ہے
رونے کا رونے والو قرینہ بھی چاہیے

دولت ملی ہے دل کی تو رکھو سنبھال کر
اس کے لیے دماغ بھی سینہ بھی چاہیے

دل کہہ رہا تھا اور گھڑی تھی قبول کی
مکہ بھی چاہیے ہے مدینہ بھی چاہیے

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم